ان بچوں کا کیا قصور؟

خواجہ فرید یونیوسٹی رحیم یار خان میں پہلی یونیورسٹی ہے یہ 2014 میں تعمیر ہوئی مئی 2018 میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ میاں محمد شہباز شریف کے ساتھ اس یونیورسٹی کے اکیڈمک بلاک کے افتتاح کے موقع پر جانا ہوا یونیورسٹی پہنچ کر معلوم ہوا کے اس یونیورسٹی میں صرف رحیم یار خان کے طلبہ و طالبات نہیں ہیں بلکہ جنوبی پنجاب سمیت فیصل آباد جھنگ جیسے شہروں کے بچے بھی وہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں یونیورسٹی میں دورہ کے دوران وزیر اعلیٰ شہباز شریف طلبہ و طالبات سے گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک ایک بچی نے اپنی نشست سے کھڑے ہو کر بلند آواز سے شہباز شریف زندہ باد کا نعرہ لگایا

شہباز شریف وزارت اعلیٰ کے دوران سرکاری دوروں میں لگنے والے زندہ باد اور پائیندہ باد کے نعروں سے منع کیا کرتے تھے اس لئے اس بچی کو بھی منع کیا گیا مگر وہ بار بار زندہ باد کے نعرے لگاتی ہوئی شہباز شریف کے قریب آئی اور کہا کہ میں آپکے دانش سکول سے پڑھی ہوئی ہوں ۔۔۔۔

 

آگے کا قصہ سنانے سے پہلے بتاتا چلوں کہ دانش سکول پنجاب کے یتیم و غریب بچوں کے لئے شہباز شریف نے بنایا تھا اور دانش سکول کا ذکر کرتے ہوئے شہباز شریف کے آنکھوں میں ہمیشہ ایک خاص چمک دیکھی ہے اوردبنگ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی آنکھوں میں اگر کبھی آنسو بھی دیکھے ہیں تو اسی سکول کے طلبہ و طالبات کا ذکر کرتے ہوئے ہی دیکھیں ہیں کہ کیسے ان کے ذہن میں یتیم بچوں کے لئے ایچی سن اور بیکن ہاؤس جیسا ادارہ بنانے کا خیال آیا۔۔۔۔ ؎

ہاں تو بات ہو رہی تھی اس طالبہ کی جس نے شہباز شریف کو اونچی آواز میں بتایا کہ وہ دانش سکول کی طالبہ ہے اور یہاں انجئیرنگ کی تعلیم حاصل کر رہی ہے ۔۔۔

مجھ سمیت تمام افراد نے شہباز شریف کے چہرے کی خوشی محسوس کی ، شہباز شریف نے اس طالبہ کو قریب بلایا  اور کہا کہ بتاؤ کیسی رہی وہاں کی تعلیم اور یہاں تک کیسے پہنچی

جب وہ طالبہ اپنی تعلیمی سفر کے بارے میں بتا رہی تھی تو شہباز شریف کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر وہ خوشی کے آنسو تھے وہ فتح کے آنسو تھے

مجھے اس بچی کے الفاظ ابھی تک یاد ہیں کہ سر آپ میرے باپ کی طرح ہیں اگر آپ نا ہوتے تو آج میں یہاں نا ہوتی

ایک دوست نے دانش سکول پر ڈاکومینٹری بنانی تھی مجھے کال آئی کہ کوئی ایسا بچہ جو اب کسی یونیروسٹی میں پڑھ رہا ہواس سے رابطہ کروا دیں ۔ مجھے یاد آیا کہ میرے بھائی کا ایک دوست جو کہ لمز یونیوسٹی میں زیر تعلیم ہے اس سے بات کرتے ہیں ، بھائی کو کال کی تو معلوم ہوا کہ وہ  لڑکا اب پاکستان آرمی میں بطور کمیشنڈ آفیسر بھرتی ہو چکا ہے اور ٹریننگ کے لئے کاکول میں ہے ۔

یہ باتیں شاید شہباز شریف یا ان کی اس ٹیم کو معلوم نہیں ہوں گی جنہوں نے دانش سکول بنانے کا خواب دیکھا اور پھر اس کی تعمیر کی ، شاید قدرت یہی ہے کہ جو مالی پھلدار درخت لگاتا ہے وہ اس کے پھل سے شاید محروم رہ جائے مگر اس کے اس پودے کی بدولت ہزاروں لوگ فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں اور اس کا یہ صدقہ جاریہ تاقیامت رہتا ہے۔

آج ہزاروں بچے اس درسگاہ سے تعلیم حاصل کر کے پاکستان سمیت دنیا بھر میں اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور ہزاروں بچے ابھی زیر تعلیم ہیں جن کے سر پر والدین کا سایہ نہیں مگر دانش کی گود میں وہ پرورش پا رہے ہیں۔

چند دن پہلے خبر آئی کہ موجودہ حکومت دانش سکول کو اس لئے بند کر رہی ہے کہ یہ شہباز شریف کا پراجیکٹ ہے ،،،

میرا موجودہ حکومت سے صرف ایک سوال ہے کہ  دانش سکول کے بند کرنے سے کس کا نقصان ہو گا؟ شہباز شریف کا یا پاکستان کا؟؟؟


Leave a Reply