مار نہیں پیار

 

شکر ہے ہم مار نہیں پیار سے پہلے پڑھ گئے ورنہ اس عمر میں اگر استاد کا ڈر نا ہو تو 90 فیصد طالب علم علم سے محروم ہی رہتے ہیں۔۔۔۔۔

ابھی کامیابی کی سیڑھیوں پر چلنا بھی شروع نہیں ہوئے مگر یہاں تک پہنچ گئے اب آگے کا سفر بھی تہہ ہو جائے گا۔ انشاللہ۔۔۔
زندگی کے اس سفر میں بہت سے لوگوں کا احسان ہے جن میں سے میرے اساتذہ سہرفرست ہیں۔۔۔
سکول، ٹویشن، کالج، اکیڈمی، یونیورسٹی ان سب جگہوں پر رسمی تعلیم کے لئے اساتذہ ملے اور ایک سے بڑھ کر ایک۔
غیر رسمی تعلیم میں گھر سے باہر بہت سے استاد رہے ہیں ان میں سے کافی استاد دوست بن گئے ۔ کچھ استاد اپنا سبق پڑھا کر اس دنیا کے میلے میں گم ہو گئے۔
میرے اساتذہ مجھے باغی تصور کرتے تھے کچھ نے مجھے سدھارنے کی کوشس کی اور ان کو لگا کے وہ کامیاب ہوگئے ہیں مگر دیکھا جائے تو میں ان کے لئے ایک اچھے اداکار کی طرح وہ کردار ادا کیا جو وہ چاہتے تھے۔
میرا ڈگری سے اس دن بھروسہ اٹھ گیا جب میں نے ایک اعلی تعلیم یافتہ شخص کو تقریباِِ ایک ان پڑھ شخص سے کم کماتے ہوئے دیکھا۔ یہی وجہ تھی کہ میں پڑھائی میں اپنے اساتذہ کو خوش نا کر سکا مگر ان کی تابعداری میں کوئی کثر نا چھوڑی۔۔۔
اور میری آج تک کامیابی کی وجہ انہی اساتذہ کی دعائیں ہیں۔
شکر ہے ہم مار نہیں پیار سے پہلے پڑھ گئے ورنہ اس عمر میں اگر استاد کا ڈر نا ہو تو 90 فیصد طالب علم علم سے محروم ہی رہتے ہیں۔
موجودہ دور میں مار نہیں پیار کی وجہ سے اساتزہ کی عزت میں کمی واقع ہوئی ہے اور یہی ہمارے معاشرے کے زوال کی وجہ ہے۔
میں اپنے تمام اساتذہ جنہوں نے میری زندگی کے سفر میں میری مدد کی اور اڑنا سکھایا ہے ان تمام اساتذہ ک


Leave a Reply